بنگلورو،21؍ جولائی(ایس او نیوز) ریاست میں سنگین خشک سالی کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے اگست کے دوران بادلوں کی تخم ریزی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بات آج ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات وپنچایت راج ایچ کے پاٹل نے بتائی۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ اگست یا ستمبر کے دوران 60 روزہ مدت کے درمیان کسی بھی وقت بادلوں کی تخم ریزی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بادلوں کی تخم ریزی کیلئے دو طیارے اور دو راڈار استعمال میں لائے جائیں گے۔ایک راڈار بنگلور میں جی کے وی کے کی چھ منزلہ عمارت پر نصب کیا جائے گا جبکہ دوسرا راڈار گدگ میں محکمۂ آب رسانی کے دفتر کی عمارت پر نصب ہوگا۔ اسی طرح بعد میں یادگیر کے شوراپور بی ڈبلیو ایس ایس بی کے دفتر پر بھی یہی راڈار استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جہاں بھی راڈار کی طرف سے ایسے بادلوں کی نشاندہی کی جائے گی جن سے بارش ہوسکتی ہے ان کی تخم ریزی کرنے کیلئے طیاروں کو استعمال میں لایا جائے گا۔ اس کیلئے طیارے تقریباً 300گھنٹے اڑان بھریں گے اور دو ماہ کی مدت میں تخم ریزی کے اس عمل کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔اس سے پہلے 2003میں بادلوں کی تخم ریزی کی گئی تھی اور وہ کامیاب بھی ہوئی، لیکن اس کے بعد کے مرحلوں میں کامیابی مل نہیں پائی تھی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس باربادلوں کی تخم ریزی کے کامیاب نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ بادلوں کی تخم ریزی کا ٹھیکہ ہوئسلا پراڈکٹس لمیٹیڈ بنگلور کو دیا گیا ہے۔ اس پر 35.77 کروڑ روپیوں کا خرچ آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بادلوں کی تخم ریزی کے کاموں میں ہوئسلا کمپنی کی مہارت کا جائزہ لینے کے بعد ہی ان کے منصوبے کو منظور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کنٹراکٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں دوکمپنیاں شامل تھیں، تاہم ایک کمپنی کو تجربے کی کمی کی بنیاد پر بولی میں شامل نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں بادلوں کی تخم ریزی کا عمل شروع کرنے کے بعد ہر دن اس کے بارے میں جانکاری اور ریاست بھر میں ہونے والی بارش کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں گی۔